Read/Present your poetry in Sahityapedia Poetry Open Mic on 30 January 2022.

Register Now
· Reading time: 1 minute

Patjhad

تمہیں ہے پیار تو اظہار کر گئے ہوتے۔
تمہارے پیار میں ہم بھی سنور گئے ہوتے۔
💗
ہمارے گاؤں کے پردیسی خیر لوٹ آئے۔
وبا سے پہلے ہی ورنہ وہ مر گئے ہوتے ۔
💖
چراغِ عشق جلایا تھا کبھی دونوں نے۔
ساتھ جو تم نے دیا ہوتا گھر گئے ہوتے ۔
💗
تمہارا پیار نوازش ہے کہ ملا مجھ کو ۔
ستارے ناز گر آنچل میں بھر گئے ہوتے۔
💖
موسم حجر بتاتے ہیں آج یہ پتجھڑ۔
بہار لوٹ کے آتا سدھر گئے ہوتے۔
💗
سبھی سوال اٹھاتے ہماری چاہت پر۔
قسم وفا کی جو کھا کر مکر گئے ہوتے۔
💖
تمہارا پیار بھی نفرت میں گر نظر آتا ۔
میری نگاہ سے کب کے اتر گئے ہوتے۔
💗
صغیر سانس بھی ہے اس کی منتظر اب تو۔
جو اس کی یاد نہ آتی تو مر گئے ہوتے۔
💖
ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی خیرا بازار بہرائچ یو پی انڈیا

38 Views
Like

Enjoy all the features of Sahityapedia on the latest Android app.

Install App
You may also like:
Loading...