Read/Present your poetry in Sahityapedia Poetry Open Mic on 30 January 2022.

Register Now
· Reading time: 1 minute

Ishq

عشق کا اپنے تجارت بھی نہیں کر سکتے۔
دور وہ اتنا زیارت بھی نہیں کر سکتے۔

حاکم وقت تیرا فیصلہ منظور نہیں۔
پر ملازم ہیں بغاوت بھی نہیں کر سکتے۔

جھوٹ جب اُسکا زمانے کو ہنر لگتا ہے۔
اب تو سچ بات کی ہمت بھی نہیں کر سکتے۔

بچے کہتے ہیں خیالات اپنے پاس رکھو۔
ہے عجب دور نصیحت بھی نہیں کر سکتے۔

اپنا تہذیب و تمدن اور ثقافت محفوظ۔
جو ملا ہے کیا حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔

رب کے احکام کو طاقوں پر سجا دیئے ہمنے۔
کیا ہم قرآں کی تلاوت بھی نہیں کر سکتے۔

آدمی کے سبھی اقدار منجمد ہوکر۔
گر چکے اتنے ریایت بھی نہیں کر سکتے۔

صرف ہم سچ ہی لکھینگے ہمیں نہ بہلاؤ۔
صغیر قلم کی تجارت بھی نہیں کر سکتے۔

18 Views
Like

Enjoy all the features of Sahityapedia on the latest Android app.

Install App
You may also like:
Loading...