Read/Present your poetry in Sahityapedia Poetry Open Mic on 30 January 2022.

Register Now
· Reading time: 1 minute

Gazal

دل جس نے چرایا ہے وہ ہوشیار تو ہوگا ۔
جب چوٹ لگے گی تو دل بیدار تو ہو گا ۔

تو میری امانت ہے تو ہی میری خواہش۔
موت سے پہلے تیرا دیدار تو ہوگا۔

ہمدرد سبھی تیرے لگتے ہیں یہ پروانے۔
انار چاہتا ہے تو بیمار تو ہوگا۔

شاخیں بھی لچک جاتی ہیں اکثر ہی پھل پا کر ۔
پھل پانے تک منزل مگر دشوار تو ہو گا۔

ترے حسن کی غماز تیری پیاری سی آنکھیں۔
تُجھ پر ہے جاں نثار تو دلدار تو ہوگا۔

کچھ ہوگی ظرافت صغیر ان کے دلوں میں۔
نفرت کا جو محل ہے مسمار تو ہو گا۔

ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی خیرا بازار بہرائچ

56 Views
Like

Enjoy all the features of Sahityapedia on the latest Android app.

Install App
You may also like:
Loading...