· Reading time: 1 minute

Dekhunga

تمہارے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھوں گا۔
مجھے ملو گے تو میں آنکھ بھر کے دیکھوں گا۔
💕
سنا ہے لوگ ہیں ساحر تمھاری بستی کے۔
کبھی گلی سے تمہاری گزرکے دیکھوں گا۔
💕
تجھے ترس کبھی آئے گی حال پر میرے۔
میں اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھوں گا۔
💕
تمہارے لفظوں میں جادو ہے جیت لینے کا۔
تمہارے پیار میں، میں ہار کر کے دیکھوں گا۔
💕
اس کو بھیجوں گا میں پیغامِ محبت پہلے۔
بنے گی بات اگر، بات کر کے دیکھوں گا۔
💕
تمہارے دم سے ہی ہے روشنی میرے گھر میں۔
تصورات میں دیوار و در کو دیکھوں گا.
💕
بڑے جتن کیے دیدار کو تیرے میں نے۔
اگر تو خواب ہے تعبیر کر کے دیکھوں گا۔
💕
صغیر حسن ہے اس کا کوئی نگینہ سا۔
نسار کرکے سب لعل و گہر میں دیکھوں گا۔
ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی خیرا بازار بہرائچ

31 Views
Like

Enjoy all the features of Sahityapedia on the latest Android app.

Install App
You may also like:
Loading...