Read/Present your poetry in Sahityapedia Poetry Open Mic on 30 January 2022.

Register Now
· Reading time: 1 minute

روز ہی ایک غزل ہو یہ ضروری تو نہیں

…غزل

آج آمد ہوٸی۔کل ہو یہ ضروری تو نہیں
روز ہی ایک غزل ہو یہ ضروری تو نہیں

صحنِ گلشن میں کھلا کرتے ہیں کچھ کالے گلاب
سب کا چہرہ ہی کنول ہو یہ ضروری تو نہیں

زندہ لاشیں بھی یہاں ہم نے کٸی دیکھی ہیں
موت کا سب کو خلل ہو یہ ضروری تو نہیں

میں سہارا تجھے دے سکتا ہوں مضبوطی نہیں
ہاتھ میرا بھی نہ شل ہو یہ ضروری تو نہیں

تشنگی میں کوٸی زمزم نہیں مانگا کرتا
پیاس کو گنگا کا جل ہو یہ ضروری تو نہیں

اے دلِ زار ہراک بات پہ روتا کیوں ہے
ساری مشکل ابھی حل ہو یہ ضروری تو نہیں

آٸیے مسٸلے سب پیار سے حل کرتے ہیں
بے سبب جنگ و جدل ہو یہ ضروری تو نہیں
اسد نظامی

1 Like · 1 Comment · 162 Views
Like

Enjoy all the features of Sahityapedia on the latest Android app.

Install App
You may also like:
Loading...