مغلیہ سلطنت اور دورِ حاضر کی حکومت — ایک تقابلی جائزہ
زمانے کی گردش کے ساتھ اچھے یا برے حالات کا سامنا لازمی ہے۔ ہمارے وطن کا حال بھی اسی تغیر کا عکاس ہے۔ اگر ہم تاریخِ ہند کے صفحات اُلٹیں تو ایسا دور ہمیں زیادہ پرانساں محسوس نہیں ہوگا جب ہندوستانی اہلِ فن، علم و ہنر کے تاجدار سامنے نظر آتے تھے — یہی دور ہندوستان کا سنہرا زمانہ کہلاتا ہے۔ اُس وقت ہندوستان کی نگرانی مغلیہ سلطنت کے ہاتھ میں تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے دور بدلتا گیا، ہمارا ملک غربت، بے اخلاقی، سیاسی اور سماجی تقسیم کے دلدل میں گھِر گیا۔ آج جمہوریت سنبھالنے والے بھی شرافت کی بجائے خودغرضی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔
اگر ہم منظرِ عام پر مغلیہ سلطنت کا جائزہ لیں تو ہمیں وہ عہدِ افتخار، تہذیب اور علمی ترقی کا دور واضح طور پر دکھائی دے گا، جبکہ موجودہ دور کے برعکس اس میں اجتماعی ہم آہنگی اور فنِ تعمیر و ادب کی ترقی نمایاں تھی۔ اس تقابلے سے ہمیں اپنے ماضی کی عظمت کے اسباق یاد آتے ہیں اور اِس سے سبق لے کر معاشرے کی اخلاقی، معاشی اور سیاسی بحالی کے راستے متعین کیے جا سکتے ہیں۔
مغلیہ سلطنت کا عہدِ عظمت
یہ ایک ایسی سلطنتِ ہند گزری ہے جس نے سب سے زیادہ طویل مدت تک — ۱۵۲۶ء سے ۱۸۵۷ء تک — ہندوستان پر حکومت کی۔ اس زمانے میں سیاسی نظام سنبھالنے والے بادشاہ نہایت مضبوط، عاقل و دانا تھے، جن کے ماتحت پورا ملک ایک منظم طریقے سے چلتا تھا۔
مغلیہ سلطنت ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ مفید سلطنت ثابت ہوئی، کیونکہ اس کے حکمرانوں نے اپنے علم، عدل، اخلاق اور سماجی وحدت کی بنیاد پر پورے ملک کو ایک جسم اور ایک روح بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا، اور ہندوستان کو تمام ممالک پر فوقیت دلائی۔
مغلیہ دور میں اگرچہ حکومت کا مرکز بادشاہ ہوتا تھا، مگر اُس کے فیصلوں کی بنیاد رعایا کی بھلائی، انصاف اور علم کے فروغ پر ہوتی تھی۔
اکبرِ اعظم نے ایک منظم انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی اور فتح پور سیکری کو علم و منطق کا مرکز بنایا، جس سے عوام الناس کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوا۔
جہانگیر نے “زنجیرِ عدل” کے ذریعے انصاف کو عوام کے دروازے تک پہنچایا، جس کے نتیجے میں رعایا امن و سکون اور عدل و انصاف کے سایے میں پروان چڑھی۔
شاہجہان نے فنِ تعمیر کو عروج بخشا — تاج محل، لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی آج بھی اُس کے ذوقِ جمال اور فنی مہارت کے شاہکار کے طور پر ہندوستان کی شناخت بنے ہوئے ہیں۔
ان حکمرانوں نے یہ ثابت کیا کہ حکومت صرف اقتدار کا نام نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جو عدل، علم اور اخلاق کی بنیاد پر قائم رہتی ہے۔ اسی عدل و نظام کا نتیجہ تھا کہ اُس دور میں ہندوستان دنیا کے خوشحال ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ علم و ہنر اپنے عروج پر تھے، اور ہندوستان کے ریشمی کپڑے، عطر، زیورات، اور فنکار ساری دنیا میں مشہور تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کا ہر شہر علم و ہنر کا گہوارہ اور تہذیب و ثقافت کا پیکر بن کر جلوہ گر تھا۔
موجودہ جمہوری نظام کی حقیقت
جمہوری نظام نے اگرچہ سائنسی ترقی، تعلیمی پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بدعنوانی، بے روزگاری اور اخلاقی زوال میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
دورِ حاضر کی حکومت کا حال تو ہم سب پر عیاں ہے — کہ کس طرح زعفرانی پارٹی جمہوریت کے ملک ہونے کے باوجود گزشتہ دس برسوں سے ہندوستان پر قابض ہے، اور اس نے ملک کے نظام کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ جو ملک کبھی ثقافتی وحدت کی مثال تھا، وہاں آج سماجی اور مذہبی تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے۔ جو سرزمین علم، ہنر اور فنون کی علامت تھی، اُسے تنگ نظری اور نفرت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔
ان سب کے پیچھے ایک ہی وجہ کارفرما ہے — کہ جتنے بھی ظالم حکمران گزرے، انہوں نے ہمیشہ اپنی رعایا کو علم سے دور رکھا تاکہ وہ طویل عرصے تک ان پر حکمرانی کر سکیں۔ یہی کچھ آج کی زعفرانی حکومت بھی کر رہی ہے، مگر عوام اس حقیقت سے غافل ہیں۔ ہم ہندو–مسلم کے نام پر باہمی تناؤ بڑھا رہے ہیں، جس کا فائدہ صرف حکمرانوں کو پہنچ رہا ہے۔
نئی تعمیرات تو دکھائی نہیں دیتیں، مگر قدیم عمارتیں، ریلوے اسٹیشن اور سرکاری زمینیں ضرور بیچی جا رہی ہیں۔
اور جہاں حکومت کا نعرہ ہے: “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” — وہاں درحقیقت اس نعرے میں “ہندوؤں کا ساتھ، ہندوؤں کا وکاس” پوشیدہ ہے۔
یہ حکومت کبھی بھی ہندوستانیوں کی حقیقی ترقی، روزگار کی فراہمی یا کسانوں کی خودکشی جیسے سنگین مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر نہیں کرتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کی جمہوری حکومت نے قوم کے مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کر دیا ہے، اور جو ملک کبھی علم، عدل اور اخوت کا مرکز تھا، اُسے نفرت، تعصب اور لالچ کا میدان بنا دیا گیا ہے۔
مغل عہد کی ثقافتی وحدت
مغل عہد نے ایک ایسی ثقافتی وحدت پیدا کی تھی، جہاں ہندو، مسلم اور سکھ ایک مشترکہ تہذیبی دھارے میں پروئے ہوئے زندگی بسر کر رہے تھے۔ اُس دور میں رواداری، اخوت اور باہمی احترام کا جذبہ غالب تھا۔ مگر آج کے دور میں مذہبی تعصب، سیاسی مفاد پرستی اور سماجی تقسیم خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
اگرچہ موجودہ حکومت نے سائنسی ترقی کے میدان میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی زوال بھی نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ جبکہ سلطنتِ مغلیہ کے دور میں مدارسِ علم، شعر و ادب اور فنِ تعمیر اپنے عروج پر تھے — یہی وہ نمایاں خدمات تھیں جنہوں نے ہندوستان کو تہذیبی عظمت بخشی۔
آج کی جمہوری حکومتیں مادّیت، خودغرضی اور کرسی کی سیاست میں مبتلا ہیں، جب کہ مغل حکمران دیانت، شرافت اور عدل کے پاسدار تھے۔ ترقی کے تمام دعووں کے باوجود آج کا ہندوستان غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی میں ڈوبا ہوا ہے، جب کہ اُس وقت کا ہندوستان دنیا کی دولت کا مرکز تھا، اور بجا طور پر “سونے کی چڑیا” کہلاتا تھا۔
اورنگزیب کے متعلق حقیقت
مغلیہ دور کے ایک حکمران اورنگزیب پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ہندوؤں کے خلاف تھے اور اُن کی مندروں کو پَسمار کرائے تھے۔ اس بنیاد پر بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مغلیہ دور میں ہندوؤں کو امن حاصل نہیں تھا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اورنگزیب نے جتنی مندریں توڑی تھیں، اُس سے کئی گنا زیادہ تعمیر کرائی تھیں۔ جن مندروں کو منہدم کیا گیا، وہ عموماً چوروں، لٹیروں اور حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ یہ اقدامات مذہبی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ملک کی سلامتی اور بھلائی کے لیے کیے گئے تھے — نہ کہ ہندوؤں کو تکلیف دینے کے لیے۔
نتیجہ
حقیقت یہ ہے کہ دونوں نظاموں میں اپنی خوبیاں اور خامیاں موجود ہیں، مگر ایک کامل نظام وہی ہو سکتا ہے جو
عدلِ جہانگیری، علمِ اکبری، فنِ شاہجہانی اور دیانتِ عالمگیری کو
جدید جمہوریت کی آزادی اور سائنسی ترقی کے ساتھ جوڑ دے۔
جب حکومت علم و اخلاق دونوں کی روشنی میں چلائی جائے، تب ہی ممالک دنیا میں عظمت و وقار حاصل کرتے ہیں۔