کہ اشکوں کا کوئی سمندر نہیں تھا،
کہ اشکوں کا کوئی سمندر نہیں تھا،
اِن آنکھوں میں کوئی بھی منظر نہیں تھا۔
بس اپنے یقیں سے مجھے مار ڈالا،
کسی ہاتھ میں اُس کے خنجر نہیں تھا۔
— ڈاکٹر فوزیہ نسیم شاد
کہ اشکوں کا کوئی سمندر نہیں تھا،
اِن آنکھوں میں کوئی بھی منظر نہیں تھا۔
بس اپنے یقیں سے مجھے مار ڈالا،
کسی ہاتھ میں اُس کے خنجر نہیں تھا۔
— ڈاکٹر فوزیہ نسیم شاد