Sahityapedia
Sign in
Home
Your Posts
QuoteWriter
Account
22 May 2025 · 1 min read

بابری مسجد

بابری مسجد

تو دسمبر مجھے انجانے نہیں لگتا ہے
میرے گھر کا کو ئی مہمان نہیں لگتا ہے

اے دسمبر تیری یہ صبح سہانی نہ رہی
تیرے دہلیز پہ وہ نور پرانی نہ رحی

تو جاتا تھا تو ہر باغ کو مہکاتا تھا
اور جاتا تو ہر ایک غم کے لیے جاتا تھا

دل میں انسو ہے تیری یاد ستاتی ہے ہمیں
داستا غم کی بتاتی ہے سناتی ہے ہمیں

بابری لے کے بھی چپ چاپ نہیں ہے دشمن
ایک کے بعد بڑھاتے ہیں نہیں ایک الجھن
بابری لے کے یہ میتھورا کی طرف جا پہنچے
کبھی سنبھل کبھی خواجہ کی طرف جا پہنچی

ان کی عادت ہے یہ مسجد پہ کریں گے قبضہ
ہا ر نہ مانیں گے نہ ٹوٹنے دیں گے جذبہ

Loading...