بابری مسجد
بابری مسجد
تو دسمبر مجھے انجانے نہیں لگتا ہے
میرے گھر کا کو ئی مہمان نہیں لگتا ہے
اے دسمبر تیری یہ صبح سہانی نہ رہی
تیرے دہلیز پہ وہ نور پرانی نہ رحی
تو جاتا تھا تو ہر باغ کو مہکاتا تھا
اور جاتا تو ہر ایک غم کے لیے جاتا تھا
دل میں انسو ہے تیری یاد ستاتی ہے ہمیں
داستا غم کی بتاتی ہے سناتی ہے ہمیں
بابری لے کے بھی چپ چاپ نہیں ہے دشمن
ایک کے بعد بڑھاتے ہیں نہیں ایک الجھن
بابری لے کے یہ میتھورا کی طرف جا پہنچے
کبھی سنبھل کبھی خواجہ کی طرف جا پہنچی
ان کی عادت ہے یہ مسجد پہ کریں گے قبضہ
ہا ر نہ مانیں گے نہ ٹوٹنے دیں گے جذبہ